
زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت ہے، اس انمول نعمت کی حفاظت کے لیے صحت مند معاشرہ کسی بھی ریاست کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنے شہریوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی صحت پر بھی بھرپور سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ جدید طبی دنیا میں علاج صرف ایک ڈاکٹر کی مہارت کا نام نہیں رہا بلکہ جدید تشخیصی مشینری، معیاری ادویات، تحقیقی مراکز، تربیت یافتہ طبی عملہ، صاف ستھرے ہسپتال، مؤثراورشفاف انتظامی نظام اور مریض کے ساتھ باوقار رویہ مل کر ایک مضبوط نظامِ صحت تشکیل دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں میں کئی دہائیوں سے وسائل واخلاقی تربیت کی کمی، بدانتظامی اوربدعنوانی جیسے سنگین مسائل حل طلب ہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، عالمی معیار کی طبی مہارت اور جدید علاج کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کا عملی عزم ظاہر کرے تو اسے خوش آئند پیش رفت قرار دینا چاہیے۔ تاہم ہر نئے منصوبے کی حقیقی کامیابی کا معیار صرف اس کا اعلان نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج،شفافیت، عوامی اطمینان اور سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے اس مثبت انقلاب سے وابستہ ہوتا ہے جس کا اثر ہر مریض کو بلا امتیاز محسوس ہو۔
علاج،معالجہ کی بنیادی سہولیات کی بروقت،آسان،مفت یاکم ازکم سستی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ جدید دور میں معیاری علاج صرف قابل ڈاکٹرز سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے جدید تشخیصی مشینیں، معیاری ادویات، صاف ستھرے اور مکمل سہولیات سے آراستہ ہسپتال، تربیت یافتہ طبی عملہ اور مؤثر انتظامی نظام بھی ناگزیر ہیں۔ آج دنیا بھر میں ڈاکٹر جدید طبی آلات کی مدد سے بیماریوں کی بروقت اور درست تشخیص کرتے ہیں، اس لیے صحت کے شعبے پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ درحقیقت انسانوں کی زندگیوں میں سرمایہ کاری ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدید عمارتیں، مہنگی مشینری اور وسیع بجٹ اس وقت تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے جب تک ان کے ساتھ خدمت کا جذبہ، اخلاق، دیانت داری، جوابدہی اور مریض کے احترام کو بھی یکساں اہمیت نہ دی جائے۔
ایسے حالات میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے،پنجاب ہیلتھ کنیکٹ پروگرام، کا آغاز یقیناً ایک خوش آئند، مثبت اور دور اندیش اقدام ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی نژاد اور غیر ملکی ماہر ڈاکٹرز اور سرجن پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دیں گے، مریضوں کا مفت علاج کریں گے اور مقامی ڈاکٹرز، سرجنز اور طبی عملے کو جدید طبی مہارتوں سے بھی روشناس کرائیں گے۔ اس منصوبے پر اسی سنجیدگی،شفافیت اور تسلسل کے ساتھ عمل درآمد جاری رہا تو یہ پنجاب کے نظامِ صحت میں ایک مثبت انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ عزم قابل تحسین ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بین الاقوامی معیار کی طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ درحقیقت ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں غریب اور امیر دونوں کو یکساں معیار کا علاج میسر ہو۔ عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں میں آ کر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ ہمارے نوجوان ڈاکٹرز کو بھی جدید طریقہ علاج سیکھنے کا موقع ملے گا۔ علم اور تجربے کی یہ منتقلی آنے والے برسوں میں پاکستانی طبی نظام کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس پروگرام کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کا رجحان کم ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسے بہت سے صاحبِ حیثیت افراد موجود ہیں جو معمولی بیماری کی صورت میں بھی علاج کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض سرکاری عہدوں پر فائز افراد سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے دوسرے ممالک میں علاج کراتے ہیں۔وہی معیار اور وہی مہارت پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب ہو جائے تو نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ قومی خزانے پر پڑنے والا بوجھ بھی نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ اس سے قیمتی زرمبادلہ بھی بچے گا اور عوام کا اپنے طبی اداروں پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔
اس خوش آئند منصوبے کے ساتھ ایک تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں عوام کی شکایات صرف ماہر ڈاکٹرز کی کمی تک محدود نہیں۔عام آدمی کی سب سے بڑی شکایت اکثر علاج کے دوران خراب رویے،ادویات کی عدم دستیابی،علاج میں تاخیر،نجی لیبارٹریوں کے مہنگے ترین ٹیسٹ جیسے مسائل کے حوالے سے سامنے آتی ہیں۔ کئی ہسپتالوں میں مریض گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک دھکے کھاتے ہیں، کسی کو رہنمائی دینے والا موجود نہیں ہوتا، بعض اوقات سخت لہجہ، غیر مناسب رویہ اور غیر ضروری تاخیر مریض اور اس کے لواحقین کے لیے بیماری سے بھی زیادہ تکلیف دہ بن جاتی ہے۔ یقیناً تمام ڈاکٹرز یا تمام طبی کارکن ایسے نہیں،بلکہ ہزاروں ڈاکٹرز انتہائی دیانت داری، محنت اور خلوص سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، چند افراد کا نامناسب رویہ پورے نظام پر سوالیہ نشان لگادیتا ہے۔
موجودہ طبی عملہ مریض کے ساتھ نرم لہجہ، احترام اور ہمدردی اختیار کر لے تو عوام کے دلوں میں سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں پائے جانے والے بہت سے تحفظات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ ایک غریب آدمی جب سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے تو وہ صرف دوا لینے نہیں آتا بلکہ وہ ریاست سے امید، سہارا اور احساسِ تحفظ بھی چاہتا ہے۔اس لیے مریض کے ساتھ حسنِ سلوک کسی اضافی سہولت کا نہیں بلکہ علاج کے بنیادی اصولوں کا حصہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح کئی سرکاری ہسپتالوں میں جدید مشینری موجود ہونے کے باوجود وہ بروقت فعال نہیں رہتی، کہیں ضروری ادویات کی کمی ہوتی ہے، کہیں ٹیسٹوں کے لیے کئی کئی ہفتوں کی تاریخ ملتی ہے، کہیں صفائی کے انتظامات تسلی بخش نہیں ہوتے اور کہیں بنیادی سہولتوں کا فقدان مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیتا ہے۔ ان انتظامی کمزوریوں کو دور کر دیا جائے تو موجودہ وسائل سے بھی علاج کی سہولتوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے حالیہ بارشوں کے دوران جس انداز میں انتظامیہ کو فوری متحرک کیا، کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر اور واسا کی کارکردگی کی خود نگرانی کی اور مختصر وقت میں نکاسی آب کو یقینی بنایا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاں حکومتی عزم اور مؤثر نگرانی موجود ہو وہاں نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل سرکاری ہسپتالوں میں بھی مستقل بنیادوں پر اختیار کیا جائے، اچانک دورے کیے جائیں، مریضوں کی شکایات براہِ راست سنی جائیں، شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے اور بہترین کارکردگی دکھانے والے ڈاکٹرز اور عملے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
پنجاب ہیلتھ کنیکٹ پروگرام کو صرف غیر ملکی ڈاکٹرز کی آمد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ بنایا جانا چاہیے۔ دیہی مراکز صحت کو مضبوط کیا جائے، تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز کی دستیابی یقینی بنائی جائے، جدید ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور دیگر تشخیصی سہولتوں کو فعال رکھا جائے، ضروری ادویات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ہر ہسپتال میں مریض کی عزت اور سہولت کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، شفاف احتساب اور جدید ڈیجیٹل نظام کو بھی فروغ دیا جائے تاکہ علاج کا پورا عمل تیز،آسان اور شفاف ہو سکے۔
کاہنہ ہسپتال بھی وزیراعلی پنجاب کی توجہ کاطالب ہے جہاں ڈاکٹرز اورطبی عملے کی کمی،ہڈی،آنکھ،کان،ناک،دانت،گلہ،فزیوتھراپی،نیوٹریشن کے شعبوں کے ساتھ ساتھ وینٹی لیٹر،کی اشدضرورت ہے،
یہ کہنا بجا ہوگا کہ پنجاب ہیلتھ کنیکٹ پروگرام صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ ایک مثبت سوچ اور بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔ تاہم کسی بھی منصوبے کی اصل کامیابی اس کے اعلان میں نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج میں ہوتی ہے۔ اس پروگرام کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی اصلاح، عوامی شکایات کے فوری ازالے، طبی عملے کے رویوں میں بہتری، جدید سہولتوں کی مسلسل فراہمی اور سخت انتظامی نگرانی کو بھی یقینی بنایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے سرکاری ہسپتال واقعی بین الاقوامی معیار کی طبی خدمات کا مرکز بن جائیں گے۔ یہی وہ کامیابی ہوگی جو نہ صرف لاکھوں مریضوں کے چہروں پر اطمینان لائے گی بلکہ حکومت کے اس قابلِ تحسین وژن کو بھی ہمیشہ کے لیے ایک کامیاب عوامی خدمت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔




