تازہ ترینکالم

لیویز فورس بحالی کی ضرورت 

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، قبائلی روایات اور بین الاقوامی سرحدوں کی وجہ سے ملک کی سلامتی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحدیں رکھتا ہے جہاں امن و امان کی صورتِ حال نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے ملک کی داخلی سلامتی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان کے متعدد سرحدی اضلاع دہشت گردی، اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سرحدی اضلاع میں لیویز فورس کی بحالی ہی دیرپا امن کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان کی لیویز فورس صرف ایک قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ یہاں کی قبائلی، سماجی اور ثقافتی شناخت کا حصہ رہی ہے۔ چند سال پہلے شمشاد رائٹرز فورم پاکستان کے ایک تقریب سے بلوچستان کے ایک ممتاز عالم دین اور مدرسہ عربیہ بحرالعلوم گھوڑا ہسپتال روڈ چمن کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی نور اللہ مرقدہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لیویز اہلکار اپنے اپنے علاقوں، قبائل، رسم و رواج، جغرافیے اور مقامی آبادی سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کے درمیان اعتماد کی علامت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ جب بھی کسی تنازع، جرائم یا سکیورٹی کے مسئلے نے جنم لیا لیویز فورس نے مقامی عمائدین اور قبائلی روایات کو ساتھ لے کر معاملات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلوچستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد کا مؤقف ہے کہ جس وقت لیویز فورس کو ختم کرکے یا پولیس میں ضم کرکے روایتی نظام کو تبدیل کیا گیا اسی وقت سے امن و امان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی گئی۔ اگرچہ اس اقدام کا مقصد ایک جدید پولیس نظام قائم کرنا تھا لیکن زمینی حقائق نے ثابت کیا کہ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کا ماحول دیگر شہروں سے مختلف ہے۔ یہاں صرف جدید پولیسنگ کافی نہیں بلکہ مقامی سماجی ڈھانچے اور قبائلی نظام کو بھی ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ سرحدی علاقوں میں تعینات ایک ایسا اہلکار جو مقامی زبان، ثقافت، قبائلی روایات، راستوں اور لوگوں سے مکمل آگاہ ہو وہ کسی بھی غیر مقامی اہلکار کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر انداز میں فرائض انجام دے سکتا ہے۔ یہی خصوصیت لیویز فورس کو منفرد بناتی تھی۔ لیویز اہلکار نہ صرف مشکوک افراد کی شناخت جلد کر لیتے تھے بلکہ مقامی عمائدین کے ذریعے تنازعات کو بڑھنے سے پہلے ہی ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ آج بلوچستان کے مختلف اضلاع خصوصاً چمن، قلعہ عبداللہ، نوشکی، واشک، پنجگور، کیچ اور دیگر سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات، سرحد پار نقل و حرکت، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ جیسے مسائل قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف طاقت کا استعمال کافی نہیں بلکہ مقامی اعتماد، معلومات اور عوامی تعاون بھی ضروری ہے، اور یہ اعتماد لیویز فورس کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیویز فورس کی سب سے بڑی طاقت عوام کے ساتھ اس کا مضبوط رشتہ تھے۔ عام شہری لیویز اہلکار کو اپنے ہی گاؤں یا قبیلے کا فرد سمجھتے تھے اس لیے وہ بلا خوف و خطر معلومات فراہم کرتے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بروقت معلومات سب سے اہم ہتھیار ہوتی ہیں اور یہ معلومات صرف اسی وقت حاصل ہوتی ہیں جب عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کریں۔ اس کے برعکس، پولیس کا نظام بنیادی طور پر شہری علاقوں کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، جہاں قانون نافذ کرنے کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے دور افتادہ سرحدی علاقوں میں قبائلی روایات، جغرافیائی دشواریاں اور سماجی حساسیت ایسی ہیں کہ وہاں مقامی نوعیت کے ادارے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد قبائلی عمائدین، سیاسی رہنما، سماجی شخصیات اور عوامی حلقے بارہا لیویز فورس کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ لیویز فورس کی بحالی کا مطلب ہرگز پولیس کی مخالفت نہیں بلکہ دونوں اداروں کو ان کی مہارت کے مطابق ذمہ داریاں دینا ہے۔ شہری علاقوں میں پولیس اپنا کردار ادا کرے جبکہ سرحدی اور قبائلی اضلاع میں لیویز فورس کو دوبارہ فعال بنایا جائے تاکہ دونوں ادارے ایک دوسرے کے معاون بن سکیں۔ اس سے نہ صرف وسائل کا بہتر استعمال ہوگا بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہو سکے گی۔ حکومت اگر واقعی بلوچستان میں پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی جو عوام کی خواہشات اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ صرف دفاتر میں بیٹھ کر بنائی گئی پالیسیاں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک ان میں مقامی تجربات اور عوامی اعتماد کو شامل نہ کیا جائے۔ لیویز فورس کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی جدید خطوط پر تربیت، جدید اسلحہ، مواصلاتی نظام، گاڑیوں، نگرانی کے آلات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ بھی ضروری ہے۔ اگر لیویز فورس کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف دہشت گردی بلکہ اسمگلنگ، منشیات اور دیگر جرائم کے خلاف بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ بلوچستان میں امن صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ عوامی اعتماد، مقامی شراکت داری، ترقیاتی منصوبوں اور انصاف کی فراہمی سے بھی وابستہ ہے۔ لیویز فورس انہی عناصر کو مضبوط بنانے والا ایک اہم ستون ثابت ہو سکتی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو لیویز میں بھرتی کرنے سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور نوجوان اپنے علاقوں کے تحفظ میں عملی کردار ادا کریں گے۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ اگر ان علاقوں میں امن قائم ہوگا تو اس کے مثبت اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جبکہ عوام میں احساسِ تحفظ بھی بڑھے گا۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر بلوچستان کے عوام کی آواز سنیں۔ اگر عوام کی اکثریت لیویز فورس کی بحالی کو امن کی ضمانت سمجھتی ہے تو اس مطالبے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ایک مضبوط، جدید، تربیت یافتہ اور بااختیار لیویز فورس بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں امن و استحکام کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ بلوچستان میں امن کا راستہ صرف اسلحے سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، مقامی روایات، انصاف اور مؤثر مقامی اداروں سے ہو کر گزرتا ہے۔ لیویز فورس ماضی میں بھی اس اعتماد کی علامت رہی ہے اور اگر اسے جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ بحال کیا جائے تو یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے امن و استحکام کے لیے ایک مثبت اور مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں لیویز فورس کی بحالی پر سنجیدگی سے غور کرے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو، دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور سرحدی علاقوں میں دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔

Related Articles

Back to top button