ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

بابائے قوم کا داغ مفارقت اور ہمارا پاکستان

تحریر عقیل خان
11 ستمبر 1948ء ہماری قومی تاریخ کا وہ المناک اور سنگین موڑ ہے جب برصغیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی کی منزل تک پہنچانے والا عظیم معمار، بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح اپنے کروڑوں سوگواروں کو چھوڑ کر دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔ قائدِ اعظم صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ وہ بصیرت، اعلیٰ اخلاقی قدروں، اور فولادی عزم و ہمت کے مجسمہ تھے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں قوم کی قیادت سنبھالی جب انگریز سامراج کی چالاکیاں اور ہندو اکثریت کی متعصبانہ پالیسیاں مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔ اس شدید نا مساعد ماحول میں قائدِ اعظم نے بغیر کسی ہتھیار، گولی یا تشدد کے، صرف اور صرف قانون، ٹھوس دلائل اور آئینی جدوجہد کے زور پر دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک نقشے پر ابھار کر دکھایا۔
قائدِ اعظم کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے بکھری ہوئی، مایوس اور نظریاتی انتشار کا شکار قوم کو “ایمان، اتحاد اور تنظیم” کے ایک بنیادی نقطے پر متحد کر دیا۔ وہ ایک ایسے راست باز لیڈر تھے جن کی ایمانداری اور اصول پسندی کا لوہا ان کے بدترین مخالفین بھی مانتے تھے۔ ان کا جینا، مرنا، اوڑھنا اور بچھونا صرف اور صرف پاکستان تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنی گرتی ہوئی صحت اور موذی مرض (تپِ دق) کو چھپا کر جس طرح انہوں نے دن رات محنت کی، وہ ان کی بے مثال حب الوطنی اور ایثار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ جانتے تھے کہ نئی مملکت کو بے شمار انتظامی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے، اسی لیے انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آخری سانس تک ریاست کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں صرف کر دی۔
11 ستمبر کا دن جہاں بابائے قوم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے، وہیں یہ دن بحیثیت قوم ہمارے لیے ایک گہرے اور شدید احتساب کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ قائدِ اعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایک ایسا ملک تھا جہاں آئین اور قانون کی بالا دستی ہو، عدل و انصاف کا نظام بلا تفریق قائم ہو، ہر شہری کو یکساں حقوق میسر ہوں، اقلیتیں خود کو محفوظ محسوس کریں، اور کرپشن و سفارش جیسے ناسووروں کا نام و نشان نہ ہو۔
مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آزادی کے سات دہائیوں بعد بھی ہم قائد کے بتائے ہوئے اصولوں سے کوسوں دور ہیں۔ ہم نے ان کے زریں افکار کو پسِ پشت ڈال کر ملک کو لسانیت، فرقہ واریت، اور ذاتی و سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ آج اگر ہماری معیشت دباؤ کا شکار ہے، ہمارے ادارے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں، اور معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے، تو اس کی بنیادی وجہ قائد کی تعلیمات اور ان کی امانت سے انحراف ہے۔
قائد کا پاکستان بمقابلہ آج کا پاکستان
قائد اعظم ایک ایسے پاکستان کی تشکیل چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی ہو: جہاں غریب اور امیر کے لیے ایک ہی ترازو ہو۔رواداری اور اقلیتوں کا تحفظ ہو: جیسا کہ انہوں نے 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر میں فرمایا تھا کہ ریاست کے سامنے تمام شہری برابر ہیں۔میرٹ اور دیانت داری کا دور دورہ ہو: جہاں کسی قسم کی رشوت، سفارش يا اقربا پروری کی گنجائش نہ ہو۔لیکن آج اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو سوال اٹھتا ہے کہ ہم نے اپنے بابائے قوم کے اس خواب کا کیا حشر کیا؟ ہم سیاسی و لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو چکے ہیں، اداروں کا نظم و ضبط ناپید ہے اور بدعنوانی معاشرے کے رگ و پے میں سرائیت کر چکی ہے۔
ایک افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ نئی نسل کو قائداعظم کی وفات کے دن کا بھی علم ہی نہیں۔ ان کو پیدائش کا دن تو یاد ہوتا ہے مگر وفات کے دن کسی کو نہیں پتا اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ یوم پیدائش پرسکولوں کی چھٹی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں یہ دن رہتا ہے مگر وفات کے دن کا نہ تو اساتذہ اکرام کلاس میں یا اسمبلی میں ذکر کرتے ہیں اور نہ بچوں کے ذہن میں یہ دن رہتا ہے۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح ہم سے جسمانی طور پر ضرور جدا ہو چکے ہیں، مگر ان کا فکر، ان کے بنیادی اصول اور ان کا دیا ہوا آزاد پاکستان آج بھی ہمارے پاس ایک عظیم امانت ہیں۔ 11 ستمبر کو محض رسمی تقاریب یا جذباتی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے، ہمیں یہ پختہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم قائد کے نظریات کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے، آئین کی حکمرانی قائم کرنے
اور اس ملک کو ایک واقعی باوقار اور خوددار اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ہمیں دوبارہ “ایمان، اتحاد اور تنظیم” کی طرف لوٹنا ہوگا—یہی ہمارے قائد کے لیے سب سے سچا اور حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔

Related Articles

Back to top button