تازہ ترینکالم

شہداء پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں

یہ خاکی ہیں تو کیا، یہ خاکِ وطن کے امین ہیں
یہ جان دے کے بھی زندہ، قوم کے یقین ہیں۔
کسی بھی قوم کی آزادی، خودمختاری اور عزت محض سیاسی نعروں سے محفوظ نہیں رہتی بلکہ ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں سے قائم رہتی ہے جو اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کر دیتے ہیں۔ وطن کی سرحدوں پر برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے ہوئے صحراؤں تک، دہشت گردی کے خلاف دشوار گزار پہاڑوں سے لے کر آفات اور مصیبتوں میں عوام کی مدد تک، پاک فوج کے افسران اور جوان خاموشی سے اپنا فرض نبھاتے ہیں۔ ان میں سے کتنے ہی ایسے ہوتے ہیں جو گھر سے یہ کہہ کر نکلتے ہیں کہ جلد واپس آئیں گے،پر ان کی واپسی سبز ہلالی پرچم میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ایک ماں اپنے لختِ جگر، ایک بیوی اپنے سہارے اور ایک بچہ اپنے باپ کو وطن پر نچھاور کر دیتا ہے۔
پاکستانی قوم اپنے شہداء کو صرف یاد نہیں کرتی بلکہ انہیں اپنے دلوں میں زندہ رکھتی ہے۔ شہداء کا لہو اس سرزمین کی حرمت، سلامتی اور بقا کی ضمانت ہے۔ ان کی قربانیاں کسی تنخواہ، عہدے یا دنیاوی مفاد کی محتاج نہیں بلکہ وطن سے بے لوث محبت، فرض شناسی اور ایمان کی روشن مثال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی فوجی جوان کی شہادت کی خبر آتی ہے تو پورا ملک غم میں ڈوب جاتا ہے اور ہر پاکستانی دل سے یہ دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
افواج پاکستان کی عظیم قربانیوں کے تناظر میں جب بھی کوئی ایسا بیان سامنے آتا ہے جو ان ایثار و وفا کی معنویت کو کم کرتا محسوس ہو، تو فطری طور پر قوم کے دل دکھی ہوتے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے،لیکن وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کا احترام ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر رہنا چاہیے۔
جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے ہر سیاسی ورکر اوررہنما کا بنیادی حق ہے، جب گفتگو ایسے موضوعات پر ہو جن کا تعلق قومی سلامتی، شہداء کی قربانیوں اور ریاستی اداروں سے ہو تو الفاظ کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے بیانات صرف ان کی ذاتی رائے نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان کے کارکنوں اور عوام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حساس معاملات میں محتاط، متوازن اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو ناگزیر ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیان، جس میں فوجی جوانوں کی خدمات کو تنخواہ کے تناظر میں بیان کیا گیا، نے ملک کے مختلف حلقوں میں سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا ہر پیشہ ور شخص اپنی خدمات کے عوض معاوضہ وصول کرتا ہے، کچھ ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی اصل قدر کسی تنخواہ سے نہیں ناپی جا سکتی۔ ایک فوجی جوان اپنی ڈیوٹی کے دوران صرف وقت اور صلاحیت خرچ نہیں کرتا بلکہ ہر لمحہ اپنی جان کو بھی خطرے میں رکھتا ہے۔ سرحدوں پر دفاعِ وطن ہو، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہوں یا قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیاں، فوجی جوان اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔
تنخواہ،سیاستدان بھی لیتے ہیں،ڈاکٹربھی لیتے ہیں،ججزبھی تنخواہ لیتے ہیں اوردیگرتمام شعبہ جات میں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین بھی تنخواہ لیتے ہیں جواُن کاحق ہے پرتنخواہ کے بدلے جان کی قربانی کاجذبہ لے کرگھرسے کوئی نہیں نکلتا،
تنخواہ ہی کسی قربانی کا پیمانہ ہوتی تو شاید کوئی شخص اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بارودی سرنگوں میں نہ اترتا، دہشت گردوں کے سامنے سینہ سپر نہ ہوتا اور نہ ہی اپنے بچوں اور خاندان کو چھوڑ کر مہینوں دشوار گزار علاقوں میں خدمات انجام دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ فوجی کی تنخواہ اس کی ملازمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے،پر اس کی شہادت کی قیمت ہرگز نہیں۔ شہداء کی عظمت ان کے جذبہ ایثار، فرض شناسی اور وطن سے محبت میں پوشیدہ ہے، جس کا کوئی مالی نعم البدل ممکن نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ریاستی اداروں پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے،تنقید اور تضحیک کے درمیان ایک واضح حدبھی موجود ہوتی ہے۔ ایسی گفتگو جس سے شہداء کے اہلِ خانہ یا وطن کے محافظوں کی قربانیوں کی اہمیت کم ہوتی محسوس ہو، وہ قومی وحدت کے لیے سودمند نہیں سمجھی جاتی۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والوں کا احترام ہر جماعت، ہر مکتبہ فکر اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کی سیاسی اور مذہبی شخصیت ہیں۔ ان کے الفاظ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اس لیے ان سے یہ توقع بھی بجا ہے کہ وہ قومی معاملات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایسے الفاظ کا انتخاب کریں جو اختلافِ رائے کو بھی برقرار رکھیں اور قومی اداروں، شہداء اور ان کے لواحقین کے احترام کو بھی مجروح نہ ہونے دیں۔ سیاست کا حسن دلیل، برداشت اور ذمہ دارانہ گفتگو میں ہے، جبکہ وطن کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے انہیں اتحاد، احترام اور قومی یکجہتی کی علامت سمجھنا ہی ایک ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔

Related Articles

Back to top button