
بھائی پھیرو(نامہ نگار)چونتیس سال سے ادھوری سڑک… آخر ذمہ دار کون؟رانا خاندان اور نکئی خاندان کے افراد وزیر مواصلات رہے مگر یہ سڑک نہ بن سکی۔عوام کا سڑک تعمیر کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق پی پی 183 کے نواحی علاقے گھمن کلاں سے مانا والا کھوہ براستہ راکہ جانے والی تقریباً دو سے تین کلومیٹر طویل سڑک گزشتہ 34 برس سے تکمیل کی منتظر ہے۔1992-93 میں اس سڑک کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ مٹی ڈال کر بیڈ تیار کیا گیا، دونوں جانب اینٹیں لگائی گئیں اور موٹا پتھر بھی بچھایا گیا، مگر اچانک کام بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد نہ کسی حکومت نے اس منصوبے کو مکمل کیا اور نہ ہی کسی منتخب نمائندے نے اس پر سنجیدگی سے توجہ دی۔اس دوران اس علاقے کے میں اقتدار کی باریاں لگانے والے رانا اور نکئی خاندان کے ممبران اسمبلی وزیر مواصلات بھی رہے ۔اگر چاہتے تو یہ سڑک مکمل ہو سکتی تھی مگر اقتدار اور وزارتوں کے مزے لینے والوں کو عوام کی مشکلات کا کیا احساس۔34 سال گزر گئے…بچے جوان ہو گئے، جوان نانا دادا بن گئے، کئی بزرگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر یہ سڑک آج بھی ادھوری ہے۔یہ صرف ایک سڑک نہیں، بلکہ ہزاروں شہریوں، کسانوں، طلبہ اور مریضوں کی روزمرہ مشکلات کی داستان ہے۔ اگر یہ مختصر سڑک تعمیر ہو جائے تو پورے علاقے کو آمدورفت، تجارت، تعلیم اور زرعی سرگرمیوں میں بے پناہ سہولت حاصل ہوگی۔اہلِ علاقہ کی امیدیں اب پی پی 183 کے ایم پی اے و صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خان اور ایم این اے رانا محمد حیات خان سے لگ چکی ہیں مگر یہ خاندان بھی دو وزارتوں کے مزے لینے کے باوجود اس سڑک کو بنانے سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔اہلیان علاقہ اور جماعت اسلامی کے اس علاقہ کے رہنما حاجی محمد رمضان نے کی اپیل ہے کہ اس 34 سالہ عوامی مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور سڑک کی تعمیر کا عملی آغاز کر کے عوام کو ان کا بنیادی حق فراہم کیا جائے


