
حکمرانی کا اصل حسن بلند و بانگ دعوؤں یا نمائشی اقدامات میں نہیں بلکہ اس احساس میں پوشیدہ ہوتا ہے جو ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ، سہولت اور انصاف کی صورت میں فراہم کرتی ہے۔ ایک مؤثر انتظامی نظام وہی ہوتا ہے جہاں سرکاری دفاتر عوام کے لیے کھلے ہوں، افسران فائلوں کے بجائے میدانِ عمل میں دکھائی دیں، قانون سب پر یکساں نافذ ہو اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے سفارش یا انتظار کی ضرورت نہ پڑے۔ یہی وہ اصول ہیں جنہیں جدید ریاستی نظم میں گڈ گورننس کا نام دیا جاتا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے حالیہ برسوں میں انتظامی نظام کو عوامی خدمت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعدد مواقع پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری افسران اپنی ذمہ داریوں کو محض دفتری کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عوام کے درمیان جا کر مسائل کا ادراک کریں اور ان کے فوری حل کو یقینی بنائیں۔ اس پالیسی پر عملدرآمد کی جھلک لاہور کی تحصیل رائیونڈ میں بھی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں اسسٹنٹ کمشنر رائے بابر علی کی متحرک انتظامی حکمت عملی شہری حلقوں میں موضوعِ گفتگو بنی ہوئی ہے۔انتظامی امور میں سب سے بڑی کمزوری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نگرانی کا نظام مفلوج ہو جائے۔ جہاں افسران فیلڈ سے دور رہیں وہاں تجاوزات بھی جنم لیتی ہیں، ناجائز منافع خوری بھی بڑھتی ہے، ترقیاتی منصوبے بھی سست روی کا شکار ہوتے ہیں اور شہری مسائل بھی پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب انتظامیہ خود میدان میں موجود ہو تو نہ صرف سرکاری مشینری متحرک رہتی ہے بلکہ متعلقہ ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔رائیونڈ میں یہی طرزِ حکمرانی اختیار کیا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، کھلے مین ہولز کی بروقت کورنگ، تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں، پرائس کنٹرول کے نظام کو فعال بنانا، “ستھرا پنجاب” مہم کی مسلسل مانیٹرنگ اور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی سمیت دیگر اداروں کی کارکردگی کا جائزہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ مسائل کے حل کو محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ عملی ذمہ داری سمجھتی ہے۔کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا انحصار صرف قوانین کے وجود پر نہیں بلکہ ان کے غیر جانبدارانہ نفاذ پر ہوتا ہے۔ قانون اس وقت معتبر بنتا ہے جب احتساب کا عمل سب کے لیے یکساں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ناقص کارکردگی پر ریونیو عملے کے خلاف کارروائی، بعض اہلکاروں کی معطلی، سرزنش اور عوامی سہولت کے پیش نظر نئے پٹواریوں کی تعیناتی کو محض محکمانہ کارروائی نہیں بلکہ جوابدہی کے نظام کو مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ پیغام ہر سرکاری ملازم کے لیے واضح ہونا چاہیے کہ عوامی خدمت میں غفلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔رائیونڈ لاہور کی ان تحصیلوں میں شامل ہے جہاں آبادی میں تیزی سے اضافہ، شہری توسیع اور تجارتی سرگرمیوں کے باعث انتظامی ذمہ داریاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں صرف دفتری اجلاس مسائل کا حل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ افسران خود موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں، متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کریں اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری فیصلے کریں۔ یہی فعال طرزِ انتظام عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گڈ گورننس ایک فرد کے بجائے پورے نظام کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ایک افسر متحرک ہو لیکن ماتحت عملہ اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر محکمہ، ہر افسر اور ہر اہلکار اپنی آئینی ذمہ داری کو دیانت داری، شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دے۔ ریاستی اداروں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں یا وسائل میں نہیں بلکہ ان کے کردار اور کارکردگی میں ہوتی ہے۔عوامی حلقوں کی جانب سے رائیونڈ میں انتظامیہ کی سرگرمیوں کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد انہیں ایسی انتظامیہ دکھائی دے رہی ہے جو بازاروں، سڑکوں، سرکاری دفاتر اور ترقیاتی منصوبوں میں براہِ راست موجود رہتی ہے۔ اگر یہ تاثر مستقل مزاجی کے ساتھ برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بھی مثبت اثر مرتب ہوگا۔تاہم ہر انتظامی کامیابی کا اصل معیار وقتی تعریف نہیں بلکہ پائیدار نتائج ہوتے ہیں۔ اگر صفائی کے نظام میں مستقل بہتری آئے، تجاوزات دوبارہ قائم نہ ہوں، پرائس کنٹرول مؤثر رہے، ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوں اور سرکاری دفاتر میں عام شہری کو عزت و سہولت میسر آئے تو یہی حقیقی گڈ گورننس ہوگی۔ یہی وہ پیمانہ ہے جس پر ہر انتظامی افسر اور ہر حکومت کا احتساب بھی ہوتا ہے۔رائیونڈ میں شروع ہونے والی یہ انتظامی فعالیت یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار تسلسل، شفافیت اور غیر جانبداری پر ہے۔ اگر قانون کی بالادستی، عوامی خدمت اور احتساب کے یہی اصول مستقل بنیادوں پر نافذ رہیں تو رائیونڈ نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کی دیگر تحصیلوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید انتظامی ماڈل بن سکتا ہے۔ریاستیں نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، دیانت دار انتظامیہ اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ رائیونڈ میں اگر یہ اعتماد برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یقیناً یہ گڈ گورننس کی جانب ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہوگی۔



