تازہ ترینکالم

آنٹی… آپ کے پاس تھوڑا سا سالن ہے؟

لاہورمیں صبح فجرکے وقت سے بارش صبح سے مسلسل برس رہی تھی۔ آسمان پر گہرے بادلوں کا راج تھا، گلیاں پانی سے بھر چکی تھیں اور ٹھنڈی ہوائیں موسم کو خوشگوار بنا رہی تھیں۔بارش سب کے لیے خوشی کا پیغام نہیں لاتی۔ کہیں یہی بارش زمین کو سیراب کرتی ہے تو کہیں کسی غریب کے چولہے کی آگ بجھا دیتی ہے۔
بارش ابھی جاری تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
اہلیہ نے دروازہ کھولا تو سامنے ننھی سویرا کھڑی تھی۔ بھیگے ہوئے بال ماتھے سے چمٹے ہوئے تھے، کپڑے نمی سے بوجھل تھے اور آنکھوں میں عجیب سی جھجک تیر رہی تھی۔وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیمی اور کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔
آنٹی… آپ کے پاس تھوڑا سا سالن ہے؟
یہ جملہ سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ معصوم بچی کی نظریں مسلسل زمین پر تھیں، جیسے وہ اپنی مجبوری چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔
اہلیہ نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا، اندر بٹھایا اور پیار سے پوچھا، ”بیٹا!آپ کے میں گھر میں سالن نہیں پکا؟
سویرا نے معصومیت سے جواب دیا، کل ابو کو بارش کی وجہ سے مزدوری نہیں ملی تھی۔ امی نے کہا تھا کہ آج نمک کے ساتھ روٹی کھا لیتے ہیں، اللہ چاہے گا تو کل ابو کو کام مل جائے گا، پھر وہ آٹا اور سبزی لے آئیں گے۔
وہ چند لمحے خاموش ہوئی۔اس کی آنکھیں بھر آئیں، اس نے آنسوؤں کو پلکوں میں ہی روک لیا۔
آنٹی… آج بھی ابو کو کام نہیں ملا۔ گھر میں پھر سالن نہیں بنا۔ میرا بھائی بیمار ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں پانی کے ساتھ روٹی نہیں کھاؤں گا۔ آپ تھوڑا سا سالن دے دیں… تو وہ روٹی کھا لے گا۔
میں قریب ہی بیٹھا یہ ساری گفتگو سن رہا تھا۔ ہر لفظ میرے دل پر دستک دے رہا تھا۔ محسوس ہو رہا تھا جیسے سویرا نہیں،انسانیت خود ہمارے دروازے پر کھڑی ہو کر مدد مانگ رہی ہو۔
اہلیہ نے فوراً سالن ایک برتن میں ڈالا۔ بات صرف سالن تک محدود نہ رہی۔ تھوڑی ہی دیر میں آٹا، چاول، دال، گھی، کچھ سبزی، چینی، چائے اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش منگوا کر سویراکوتحفے میں دی گئیں۔
سویرا سامان دیکھ کر خوشی سے مسکرا اٹھی۔ شاید کئی دن بعد اس کے چہرے پر امید کی روشنی لوٹی تھی۔ وہ خوش کن جذباتی اندازمیں اپنے گھر کی طرف دوڑ گئی۔
میں دیر تک دروازے پر کھڑا بارش کو دیکھتا رہا۔ بادل اب بھی برس رہے تھے، دل میں ایک اور طوفان برپا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے شہر میں نہ جانے کتنی سویرا ہیں، کتنے بیمار بچے ہیں اور کتنے مزدور ہیں جو بارش رکنے کی دعا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے گھرمیں چولہے جل سکیں۔
میں نے بے اختیار آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کا وسیلہ بنایا۔
مون سون کی یہ بارشیں گزر جائیں گی، موسم بدل جائے گا، ننھی سویرا کی وہ لرزتی ہوئی آواز کبھی نہ بھول سکے گی۔
آنٹی… آپ کے پاس تھوڑا سا سالن ہے؟
یہ صرف ایک سوال نہیں تھا، بلکہ ہمارے ضمیر، ہماری انسانیت اور ہمارے معاشرتی احساس کے دروازے پر دی جانے والی ایک دھیمی دستک تھی۔
مون سون کی بارشیں پورے ملک پر برس رہی ہیں، آئیے اپنے گھروں کے دروازوں کے ساتھ اپنے دلوں کے دروازے بھی کھول دیں۔ ہوسکتا ہے آپ کے گھر کے آس پاس بھی کوئی سویرا رہتی ہو، جو صرف تھوڑا سا سالن نہیں بلکہ ہماری توجہ، ہماری ہمدردی اور ہمارے احساس کی منتظر ہو۔ انسانیت کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ ہم کسی کی ضرورت اس کے لبوں پر آنے سے پہلے اس کی آنکھوں میں پڑھ لیں
مون سون کی بارشیں جہاں قدرت کا حسین تحفہ اور زمین کی تازگی کا باعث بنتی ہیں، وہیں احتیاط نہ کی جائے تو یہی بارشیں انسانی جان، صحت اور املاک کے لیے بڑے خطرات بھی پیدا کر دیتی ہیں۔ پاکستان اس وقت مون سون کے موسم سے گزر رہا ہے، خصوصاً پنجاب کے مختلف اضلاع میں مسلسل اور شدید بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ہر سال بارشوں کے دوران کہیں بوسیدہ عمارتیں اور خستہ حال چھتیں گر جاتی ہیں، کہیں بجلی کا کرنٹ قیمتی جانیں نگل لیتا ہے، کہیں سیلابی پانی لوگوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب غریب اور دیہاڑی دار مزدور کئی کئی دن تک روزگار سے محروم ہو کر اپنے اہلِ خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی نہیں کر پاتے۔ ایسے حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، دوسروں کا خیال رکھنا اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
بارش کے موسم میں سب سے بڑا خطرہ کمزور اور بوسیدہ عمارتوں سے ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں ہزاروں ایسی رہائشی اور تجارتی عمارتیں موجود ہیں جن کی دیواریں کمزور ہو چکی ہیں، چھتوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ان کی بنیادیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ مسلسل بارش ان کمزوریوں کو مزید بڑھا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں اچانک چھتیں یا دیواریں گرنے کے المناک واقعات پیش آتے ہیں۔ ایسے سانحات میں اکثر معصوم بچے، خواتین اور محنت کش افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر شہری اپنی رہائش گاہ، دکان یا دفتر کا جائزہ لے۔ چھت یا دیوار میں معمولی سی بھی دراڑ نظر آئے تو فوری طور پر اس کی مرمت کروائی جائے۔ عمارت انتہائی خستہ حال ہو تو وہاں رہنے کے بجائے کسی محفوظ جگہ منتقل ہونا ہی دانشمندی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے پڑوسیوں اور عزیز و اقارب کو بھی ایسی عمارتوں سے دور رہنے کی تلقین کرنی چاہیے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
بارشوں کے دوران بجلی بھی ایک خاموش قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ گلیوں اور سڑکوں میں جمع پانی، ٹوٹی ہوئی بجلی کی تاریں، غیر محفوظ برقی آلات اور ناقص وائرنگ انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ معمولی سی غفلت جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ کہیں بجلی کی تار گری ہوئی نظر آئے تو ہرگز اس کے قریب نہ جائیں بلکہ متعلقہ ادارے کو فوری اطلاع دیں۔ بچوں کو بھی پانی میں کھیلنے سے روکیں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں بجلی کے کھمبے یا ٹرانسفارمر موجود ہوں۔ گھروں میں گیلے ہاتھوں سے برقی آلات استعمال کرنے سے گریز کریں اور غیر معیاری تاروں یا سستے برقی سامان کے استعمال سے حتیٰ الامکان بچیں۔ احتیاط کے یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات بڑی مصیبت سے بچا سکتے ہیں۔
شدید بارشوں کے باعث سڑکوں پر پھسلن بڑھ جاتی ہے اور ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور اور پیدل چلنے والے افراد زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ گاڑی چلاتے وقت رفتار کم رکھنا، ہیڈلائٹس کا درست استعمال کرنا، غیر ضروری سفر سے گریز کرنا اور پانی سے بھری سڑکوں پر احتیاط سے گزرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بارش کے پانی میں نہانے یا ندی نالوں کے قریب جانے سے روکیں کیونکہ تیز بہاؤ لمحوں میں بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
بارش کا موسم صرف عمارتوں اور حادثات کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی کئی خطرات لے کر آتا ہے۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارشوں کے بعد مچھروں کی افزائش میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں ڈینگی، ملیریا اور دیگر متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اسہال اور جلدی بیماریوں میں بھی اضافے کاخدشہ ہے۔ ضروری ہے کہ گھروں اور گلیوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے، پانی ذخیرہ کرنے والے برتن ڈھانپ کر رکھے جائیں، صفائی کا خاص خیال رکھا جائے اور مچھروں سے بچاؤ کے لیے جالیوں، مچھر دانیوں اور حفاظتی اسپرے کا استعمال کیا جائے۔ پینے کے لیے صاف اور ابلا ہوا پانی استعمال کیا جائے اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ ان کی قوتِ مدافعت نسبتاً کم ہوتی ہے۔
بارشوں کے موسم میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ دیہاڑی دار مزدور اور غریب خاندان ہوتے ہیں۔ جب کئی دن مسلسل بارش ہوتی ہے تو تعمیراتی کام، مزدوری، ریڑھی، رکشہ، کھیتوں اور دیگر روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ مزدور صبح سویرے روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں اوترشام کو خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں۔ ایسے گھروں میں بچوں کے لیے دودھ، راشن اور ادویات کا بندوبست کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ صرف معاشی مشکلات بلکہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد، تاجر، صنعت کار، سماجی تنظیمیں اور مخیر حضرات ایسے خاندانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں تو بے شمار گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد موجود ضرورت مند خاندانوں پر نظر رکھیں۔ راشن کے تھیلے، آٹا، دالیں، چاول، گھی، دودھ، ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ خاموشی اور عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان تک پہنچائیں۔ بعض اوقات ایک خاندان کی چند دن کی مدد انہیں شدید مالی اور نفسیاتی بحران سے بچا سکتی ہے۔ اسلام بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ مصیبت کے وقت اپنے بھائی کا سہارا بنیں۔ حقیقی خوشحالی صرف اپنی ضروریات پوری کرنے میں نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد بانٹنے میں ہے۔
اس موقع پر حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ نکاسی آب کے نظام کو موثر بنانا، کمزور عمارتوں کی نشاندہی کرنا، خطرناک مقامات کو بند کرنا، بجلی کے نظام کی بروقت مرمت، طبی مراکز میں ضروری ادویات کی فراہمی، ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے خلاف موثر مہم، اور ہنگامی امدادی ٹیموں کی دستیابی عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مساجد، سماجی تنظیمیں اور مقامی کمیونٹیاں بھی احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا تونہیں جا سکتا،البتہ دانشمندانہ منصوبہ بندی، بروقت احتیاط اور اجتماعی تعاون کے ذریعے ان کے نقصانات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ بارش کا موسم ہمیں صرف چھتری اور برساتی استعمال کرنے کا پیغام نہیں دیتا بلکہ یہ ہمیں انسانیت، احساسِ ذمہ داری، باہمی تعاون اور ہمدردی کا سبق بھی سکھاتا ہے۔ ہر شخص اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی، اپنے محلے، اپنے مزدور، اپنے بزرگ اور اپنے معاشرے کے کمزور افراد کا بھی خیال رکھے تو بہت سے حادثات، بیماریاں اور محرومیاں جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔ یہی ایک ذمہ دار، مہذب اور بااخلاق معاشرے کی پہچان ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں محفوظ، صحت مند اور باہم ہمدرد پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button