
بھائی پھیرو(نامہ نگار): مولانا فضل الرحمن کا حکومت پر سخت تنقید، دینی مدارس پر پابندیوں اور مہنگائی کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔ہمارے علمائے دیوبند نے ماضی میں انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کیلیے ہزاروں جانیں قربان کیں انشا ئاللہ مستقبل میں بھی ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔جمعیت العلمائے اسلام کے مرکزی رہنماوں،چاروں صوبوں کی اعلی قیادت،صدرجمعیت اہلحدیث ہشام الہی ظہیر،اور چئیرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان علامہ ابتسام الہی ظہیرنے بھی خطاب کیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھائی پھیرو میں جمعیت العلمائے اسلام کے ضلعی امیرمفتی محمد سفیان معاویہ اور معروف عالم دین مولانا عبدالعزیز فارقی کے زیر اہتمام ایک بہت بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔اس جلسہ میں جمعیت العلمائے اسلام کے پنجاب بھر سے قافلوں نے شرکت کی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جمعیت العلمائے اسلام کے زیر اہتمام ایک بہت بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبہ پنجاب بھر سے قافلوں نے شرکت کی۔جمعیت العلمائے اسلام کی مرکزی قیادت اور چاروں صوبوں کی اعلی قیادت،صدرجمعیت اہلحدیث ہشام الہی ظہیر،اور چئیرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان علامہ ابتسام الہی ظہیرنے بھی خطاب کیا،رات دیر گئے: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھائی پھیرو میں ایک بڑے عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علمائے دیوبند نے ماضی میں انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کیلیے ہزاروں جانیں قربان کیں انشا ئاللہ مستقبل میں بھی ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔مولانا نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے دینی مدارس پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کر رہی ہے، جو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے منافی ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں اس وقت ایسی فضا قائم ہو چکی ہے جسے ”نیم مارشل لا” کہا جا سکتا ہے، جہاں آزادیِ اظہار، سیاسی سرگرمیوں اور جمہوری اقدار کو محدود کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں لاقانونیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ بے روزگاری اور معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے حکمرانوں کو یاد دلایا کہ انکی رٹ صوبہ بلوچستان،صوبہ کے پی کے،آزاد کشمیر میں رٹ ختم ہو چکی ہے اور اسکی وجہ انکی عوام دشن،اسلام دشمن اور غیروں کی غلامی میں بنائے گئی پاکیسیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے علمائے دیوبند نے انگیز کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کیے ہزاروں جانوں کے نزرانے پیش کیے انشا ء اللہ آئیندہ بھی ہم اپنے ملک کو کسی کا غلام نہیں بنے دیں گے۔جلسہ عام سے جمعیت العلمائے اسلام کے مرکزی اور چاروں صوبوں کی اعلی قیادت کے درجنوں رہنماوں،صدرجمعیت اہلحدیث ہشام الہی ظہیر،اور چئیرمین قرآن و سنہ موومنٹ پاکستان علامہ ابتسام الہی ظہیرنے بھی خطاب کیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں اسلام، شریعت اور دینی اقدار کی بات کرنا بھی مشکل بنایا جا رہا ہے، حالانکہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیت علمائے اسلام ملک کو ہر قسم کی غلامی سے نجات دلانے اور اسلامی اصولوں پر مبنی عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔جلسے میں کارکنوں اور شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے دوران مختلف نعروں کے ذریعے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔جلسہ عام کے منتظم مفتی سفیان معاویہ اور معروف عالم دین مولانا عبدالعزیز فارقی نے آخر میں تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے کہا کہ یہ جلسہ نہ صرف ملکی سیاست بلکی پنجاب کی سیاست کا بھی رخ موڑ دے گا



