
تحریر امتیاز شاکر
پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر گزرتا دن نئی آزمائشوں اور بڑھتے ہوئے خدشات کی خبر دے رہا ہے۔ ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر دیا ہے تو دوسری طرف کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال، بھاری ٹیکسوں، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور سرمایہ کاری کے ماحول سے مایوس دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تازہ (بزنس کانفیڈنس انڈیکس)رپورٹ ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب بھی حکومت نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا تو پھر کب لے گی؟
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی کاروباری اعتماد 22 فیصد سے کم ہو کر صرف 13 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ محض عددوشمار نہیں بلکہ ملکی معیشت پر کاروباری برادری کے اعتماد کا پیمانہ ہے۔ جب اعتماد کم ہوتا ہے تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے، نئی صنعتیں قائم نہیں ہوتیں، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور معیشت کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث سپلائی چین پر پڑنے والے منفی اثرات، مسلسل بڑھتی مہنگائی، بھاری ٹیکسوں کا بوجھ، معاشی بے یقینی اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔ ان عوامل نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 70 سے 80 فیصد کاروباری اداروں نے اپنی سرمایہ کاری کے منصوبے یا تو موخر کر دیے ہیں یا ان میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں۔
سرمایہ کاری کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جب سرمایہ کار پیسہ لگانے سے ہچکچانے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں مستقبل محفوظ دکھائی نہیں دے رہا۔ رپورٹ میں نئی سرمایہ کاری کا اشاریہ صرف دو فیصد تک گر جانا اس خدشے کی واضح علامت ہے کہ کاروباری برادری مستقبل کے بارے میں پُرامید نہیں۔
مہنگائی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں 84 فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو ملک کا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ مہنگائی صرف عام شہری کے لیے مسئلہ نہیں بلکہ صنعت کار، تاجر اور سرمایہ کار بھی اس سے یکساں متاثر ہوتے ہیں۔ خام مال مہنگا ہوتا ہے، پیداواری لاگت بڑھتی ہے، بجلی، گیس اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ صارف کی قوتِ خرید کم ہونے سے فروخت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں کاروبار کیسے ترقی کرے؟
اسی طرح 79 فیصد کاروباری اداروں نے بھاری ٹیکسوں کو کاروباری ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ٹیکس کسی بھی ریاست کی ضرورت ضرور ہیں پر جب ٹیکسوں کا بوجھ کاروبار کی استعداد سے بڑھ جائے تو اس کا نتیجہ صنعتوں کی بندش، کاروبار کی سکڑتی ہوئی سرگرمیوں اور سرمایہ کے دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ زیادہ ٹیکس ہمیشہ زیادہ آمدنی کی ضمانت نہیں بنتے، بلکہ بعض اوقات وہ معاشی سرگرمیوں کو محدود کر دیتے ہیں۔
رپورٹ میں 61 فیصد کاروباری اداروں نے روپے کے استحکام اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سرمایہ کار سب سے پہلے استحکام دیکھتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ آج جو پالیسی ہے، کیا وہ چھ ماہ یا ایک سال بعد بھی برقرار رہے گی؟ کیا حکومت ہر بجٹ میں کاروباری قواعد بدل دے گی؟ کیا درآمد، برآمد، ٹیکس یا صنعتی پالیسی اچانک تبدیل نہیں ہوگی؟ جب ان سوالات کے واضح جواب نہ ہوں تو سرمایہ کار انتظار کو ترجیح دیتا ہے۔
تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ سروسز سیکٹر میں کاروباری اعتماد میں 20 پوائنٹس کی کمی آئی ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا اعتماد بھی سات پوائنٹس نیچے آیا ہے۔ یہ دونوں شعبے معیشت، روزگار اور ٹیکس آمدن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی شعبے کمزور پڑ جائیں تو معیشت کی مجموعی رفتار متاثر ہونا ناگزیر ہے۔
ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد میں 20 فیصد بہتری اور غیر ملکی ممبر کمپنیوں کے اعتماد میں 28 فیصد اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے،پر یہ محدود کامیابیاں مجموعی تصویر کو تبدیل نہیں کرتیں۔ ان غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے جنریٹو مصنوعی ذہانت (AI) کو اپنانا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا تیزی سے جدید ٹیکنالوجی، جدت اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ ہمارا بڑا حصہ ابھی بنیادی معاشی استحکام کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کاروباری اعتماد محض اعدادوشمار کا کھیل نہیں بلکہ قومی معیشت کی نبض ہے۔ جب کاروبار بند ہوتے ہیں تو صرف ایک مارکیٹ، دکان یا ایک فیکٹری بند نہیں ہوتی بلکہ درجنوں خاندانوں کے روزگار کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔بے روزگاری میں اضافہ غربت کو جنم دیتا ہے، غربت سماجی بے چینی کو بڑھاتی ہے، اور یہی بے چینی ریاست اور معیشت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ بند ہوتے کاروبار صرف معاشی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ سرمایہ کاروں کے دلوں میں بداعتمادی بھی پیدا کرتے ہیں، جسے ختم کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔
اس وقت ضرورت سیاسی نعروں یا وقتی اعلانات کی نہیں بلکہ ایسی جامع معاشی حکمت عملی کی ہے جس میں پالیسیوں کا تسلسل، ٹیکس نظام میں اصلاحات، کاروبار دوست ماحول، توانائی کے اخراجات میں کمی، روپے کے استحکام، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور بیوروکریسی کی غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے کو ترجیح دی جائے۔ حکومت کو نجی شعبے کو اپنا شراکت دار سمجھنا ہوگا، کیونکہ معاشی ترقی صرف سرکاری اقدامات سے نہیں بلکہ ریاست اور کاروباری طبقے کے باہمی اعتماد سے ممکن ہوتی ہے۔
آج بھی موثر اقدامات نہ کیے گئے تو سرمایہ کار مزید کتناانتظار کریں گے؟سرمایہ کاراپنے وسائل کے ساتھ ان ممالک کا رخ کریں گے جہاں انہیں استحکام، تحفظ اور بہتر منافع کی امید ہو۔ پاکستان ایسے حالات کامتحمل نہیں ہو سکتا کہ سرمایہ بھی جائے، صنعت بھی بند ہو، روزگار بھی ختم ہو اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے مزید دب جائیں۔
حکومت کے سامنے سوال آج بھی وہی ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے۔ اب نہیں تو پھر کب؟ کاروباری اعتماد بحال کرنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے، مہنگائی پر قابو پانے اور ٹیکس نظام کو متوازن بنانے کے لیے آج سنجیدہ فیصلے نہیں کیے جائیں گے تو کل شاید حالات مزید مشکل ہو جائیں۔




