تازہ ترینکالم

گدھے کے گوشت پر حیرت 

 چند ماہ قبل علاقائی صحافیوں کی بہت بڑی نمائندہ تنظیم کے مرکزی سیکرٹری جنرل و چھوٹے بھائی عابد حسین مغل میرے پاس شمس آباد مری روڈ راولپنڈی آئے رات کھانے کے وقت ہم ایرڈ یونیورسٹی کے ساتھ مری روڈ پر چہل قدمی کرتے ہوئے سکستھ روڈ پہنچے ہوٹل میں کھانے کا آرڈر دینے لگے تو برادرم عابد مغل بول اٹھے نہیں کچھ اور نہیں صرف دال ہی منگوانی ہے انہیں بھی شاید گدھے کے گوشت کا ڈر تھا اسلام آباد راولپنڈی سے نکلیں اور 26 نمبر سٹاپ سے جی ٹی روڈ کے ذریعے ٹیکسلا اٹک پشاور کی طرف جائیں تو چند کلومیٹر ترنول پھر سنجانی ٹول پلازہ ہے اسی ایریا میں جی ٹی روڈ سے ہٹ کر صرف چند میٹر پر وفاقی دارلحکومت کی حدود میں گدھوں کا فارم پکڑا گیا جہاں سے 25 من گوشت اور 50 کے قریب زندہ گدھے برآمد ہوئے یہ کاروائی اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہرہ صدیق کی قیادت میں کی گئی موقع سے صرف ایک غیر ملکی شخص پکڑا گیا فوڈ اتھارٹی نے اس کاروائی کی اطلاع مقامی پولیس کو نہیں کی تھی یہی یہ چھاپہ ناکامی پر منتج ہوتا بٹگرام میں بھی گدھے کے گوشت کی خبر سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے اسلام آباد میں اس کاروائی کے بعد پہلا سرکاری بیان جاری ہوا گدھے کے گوشت کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی کے شواہد نہیں ملے یہ گوشت بیرون ملک بھیجا جاتا ہے جبکہ بعد کی کچھ رپورٹس مطابق جڑواں شہروں کے متعدد نامور ہوٹلز وغیرہ میں ان کی سپلائی چھوٹی بڑی بوٹی اور قیمہ بنانے کے بعد کی جاتی ہے ماضی میں لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی گدھے کے گوشت برآمد ہوا مگر عبرت کا نشان ایک بھی نہ بنا اسلام آباد کے جس علاقے میں گدھوں کا گوشت پکڑا گیا وہ شہر اقتدار میں منشیات کی سمگلنگ سمیت دیگر جرائم کا مضبوط اور منظم ترین اور سب سے بڑا گڑھ ہے یہاں کے پولیس اسٹیشن میں کسی منجھے ہوئے یا کماو پتر آفیسر کو ایس ایچ او لگایا جاتا ہے یہاں ماضی میں ریڈ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر موت کے گھاٹ تک اتارا جا چکا ہے صورتحال اب بھی وہی ہے مگر سب ادارے یہاں آج بھی ناکام ہیں اس علاقے میں جی ٹی روڈ بیف پلاو کے متعدد شہرت یافتہ ہوٹلز موجود ہیں گذشتہ دنوں الراقم جی سکس مرکز میں اسلام آباد کے نامور صحافیوں بابر مغل وحید ڈوگر اور شہزاد ہراچہ سمیت مزید دوستوں ساتھ بیٹھا تھا وہیں چند دوستوں نے فوری ترنول جا کر بیف پلاو کھانے کا پروگرام بنا لیا وہ چلے گئے ہمیں کچھ مصروفیت تھی ترنول کے علاقے میں بنے بیف پلاو کے ہوٹلز میں جڑواں شہروں کے باسیوں کی بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پرجاتی اور بیف پلاو کھاتی ہے گذشتہ رو اوکاڑہ میں ہیڈ سلیمانکی جو انڈیا بارڈر کے بالکل ساتھ ہے سے پولیس نے سو من مردہ مرغیوں کا گوشت ایک مشکوک گاڑی سے برآمد کر لیا یہ نادر گوشت لاہور کے شہریوں کے لیے لے جایا جا رہا تھا اسی روز لاہور اسلام آباد موٹر وے پر بھی ایک گاڑی سے کئی من مردہ مرغیاں برآمد کی گئیں یہ مردہ مرغیاں گدھے کے گوشت کی طرح جڑواں شہر کے باسیوں کے لیے ہی تھیں شہر اقتدار میں گدھے کے گوشت کی حالیہ برآمدگی کے بعد اس کے بہت چرچے ہوئے نیشنل میڈیا و سوشل میڈیا پر خوب بڑھ چڑھ کر بیان کیا گیا اس واقعہ کی ٹھیک عکاسی سوشل میڈیا کی زینت بنی ایک پوسٹ نے کی جس میں ایک شخص گدھے کے سامنے کھڑا ہو کر اسی کی طرز کی بولی نکالنے کی کوشش کر رہا تھا ملک بھر میں گدھے کے برآمد ہونے والے گوشت پر بہت رد عمل دے رہے ہیں دراصل اس شخص کی جانب سے یہ عکاسی صرف اس کی نہیں تھی بلکہ ہماری سوسائٹی ہمارے معاشرے ہمارے نظام ہمارے سسٹم اور گورنس پر سوالیہ نشان تھی ۔۔گدھا۔۔۔ہماری قوم مجموعی طور پر گدھے کی مانند ہی فرمانبردار تابعدار صبر کرنے والی ہر قسم کا بوجھ اٹھانے والی ڈنڈے کھانے والی ہے ایسے میں گدھے کے گوشت سے کونسی قیامت آ گئی جو جس قابل ہوتے ہیں رب کریم کی طرف سے انہیں عنایت بھی وہی کچھ ہوتا ہے یہی قانون فطرت ہے جسے تبدیل بھی انسانی اعمال و فطرت خداوندی ہی کر سکتی ہے ہم سب کچھ کھاتے ہیں مگر جب تک اس کی کوئی نشاندہی نہ کرے تب تک لکڑ ہضم پتھر ہضم جاری رہتا ہے ایک روز قبل مجھے لاہور ایک گھر جانے کا اتفاق ہوا وہاں پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ڈرم اور ان کے اوپر زنگ آلود ڈونگے پڑے تھے مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ سب کیا ذہن میں آیا کیمیکل ٹائپ کچھ ہو گا پوچھنے پر علم ہوا اس علاقے میں ان کے بھائی کی مشہور ترین پان شاہ ہے جہاں دن رات رش رہتا ہے دور دور سے لوگ گاڑیوں میں خود یا ملازمین کو وہاں بھیجتے ہیں اور ان ڈرمز میں پان پر لگایا جانے والا کتھہ ہے استغفار کاش کھانے والے یہ نظارہ بھی کر چکے ہوتے شہر اقتدار میں متعدد ایمبیسڈرز رہتے ہیں ان کے لیے وہاں خنزیر کے گوشت کا بہت کاروبار ہے رات کو اسلام آباد کی متعدد سڑکوں پر آپ کو خنزیر وں کے غول نظر آئیں گے سڑکیں تو دور کی بات ہے الراقم نے تو متعدد مرتبہ میریٹ ہوٹل کے سامنے مبسٹر انکلیو میں اپنی آنکھوں سے بچوں سمیت خنزیروں کو ٹہلتے دیکھا ہے پاکستان میں ادارے بھی ہیں ان پر عمل کرانے والے بھی ہیں نت نئے تجربات کی بدولت کوئی نہ کوئی نیا محکمہ بھی معرض وجود میں آجاتا ہے یہ الگ بات آگے دوڑ پیچھے چوڑ مگر سب کچھ سب نظام ویسے کا ویسے ہی ہے نہ ملاوٹ کم ہوئی نہ گراں فروشی نہ ذخیرہ اندوزی حیرت کی بات ہے پاکستان میں دودھ کی جتنی کھپت ہے اتنا آ کدھر سے جاتا ہے بڑے شہروں میں بسنے والے جب گاوں آتے ہیں ادھر کا دودھ پی کر وہ اور ان کے بچے بیمار پڑ جاتے ہیں ایک محتاط اندازے مطابق ملک بھر میں روزانہ لاکھوں لیٹر دودھ کیمیکل شدہ تیار اور سپلائی کیا جاتا ہے کنٹرول شیڈز میں مرغیوں کی میٹلٹی بعض اوقات خطرناک حد تک ہوتی ہے خطرناک حد نہ بھی ہو تب بھی بہت بڑی تعداد ضرور ہے اس میں سے 70 فیصد کہیں نہ کہی سپلائی کی جاتی ہیں اسی شعبہ سے وابستہ ایک ذمہ دار دوست کے مطابق متعدد گھی بنانے والی فیکٹریوں میں ان کی اتنی زیادہ کھپت ہے جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ہم ڈھول بجا رہے ہیں گدھے کے گوشت کا گدھے کا گوشت وہ تو پھر بھی بعض روایات کے مطابق حلال البتہ اس کا گوشت مکروہ ہے اور جو ہے ہی مردہ اور کھاتے بھی ہم روزانہ ہیں اس بارے کیا الفاظ استعمال کئے جائیں یا کیا کہا جائے ہمیں پوری قیمت ادا کرنے کے باوجود اتنا حرام کھلایا جاتا ہے جو گنتی سے بھی باہر ہے مجھے میرے دوست رائے جاوید اور رائے سکندر نور بتا رہے تھے کہ مردہ مرغیاں کھا کھا کر ہمارے علاقے کے آوارہ کتے بھی قابو سے باہر ہو چکے ہیں تب میں نے سوچا ہمارے معاشرے میں اتنی عدم برداشت کیوں ہیں ہم کیوں بات بات پر ایک دوسرے کو کاٹ کھانے پر تل جاتے ہیں ہر قسم کی خرافات واہیاتیاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے امن اخوت بھائی چارگی محبت اور یگانگت کا اتنا قحط ماضی میں کبھی کسی نے سوچا بھی تھا کسی بڑی عمر کے بزرگ سے قصہ ماضی پوچھ کر تو دیکھیں نہ ملاوٹ نہ ذخیرہ اندوزی نہ معاشرتی بد امنی سب سامان خالص بات بھی خالص رشتہ بھی خالص تب کوئی ایسا محکمہ بھی نہیں تھا نہ ان کی ضرورت تھی اب دور جدید میں جب ہم سب کچھ پکڑ سکتے ہیں گرفت میں لا سکتے ہیں تب ایسی بے غیرتیوں کی پرواز بلند کیوں ہے ہم گدھے کے گوشت کا واویلا کر رہے ہیں مجموعی طور پر ہمارا چال چلن ہی وہی ہے گدھے کی مانند وفا کش بھی ہیں مخلص بھی ہیں سامان بھی ڈھوتے ہیں ڈنڈے بھی کھاتے ہیں اور گھاس پھوس پر گذارا بھی صبرو شکر سے کرتے ہیں پھر ہم پریشان کیوں ہیں یہاں بڑوں کے بڑے گھپلے اور غریب عوام ایک دوسرے کو نوچنے میں مصروف ہے کسی ریڑھی سے سبزی یا پھل لیں تو لگ پتہ جائے گا کہ اس نے آپ کے شاپر میں کیا کیا ڈال دیا ہے گاڑی یا بائیک پنکچر ہو تو عموماً ایک کی جگہ تین ہوتے ہیں ہم ہمارا معاشرہ اور ہمارا سسٹم نہ جانے کس جانب محو سفر ہے قیام پاکستان سے لے کر ہم نے انہی کو اپنا مسیحا سمجھا جنہوں نے ہمارا ہماری آنے والی نسلوں کا خون چوسا اور نچوڑا ان مسیحاوں کو سکون پھر بھی نہیں ان کی ایسی خصلتیں مزید توانا اور بڑھ جاتی ہیں حال ہی میں چینی سے قوم کو 300 ارب روپے کا چونا لگا دیا ( واضح رہے چینی سکینڈلز کئی دہائیوں سے جاری ہیں مگر لٹ مار میں مزید اضافہ ) عام آدمی اپنی روٹی گندگی کے ڈھیر سے ڈھونڈتا ہے جس کی بہتری کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آ رہا گدھے کے گوشت سے قوم کیوں اتنی فکر مند ہے یہ تو پاکستان میں معمول کی بات ہے ایویں تو نہیں ہم فرمانبرداری کرتے ایسے تو نہیں ہم ہر جائز و ناجائز کام میں لگ جاتے ہیں ہمیں روزانہ گدھے کی طرح ہانکا جاتا ہے ہم پھر بھی خوش ہیں میرا قصبہ تحصیل اوکاڑہ کا سب سے بڑا اور تاریخی قصبہ ہے ماضی میں اسے ضلع کا درجہ بھی حاصل رہا 31 جولائی کو لوگ فجر کی نماز سے فارغ ہوئے تو تمام مساجد کے اسپیکرز آن ہو گئے کہ اس علاقہ کے لارڈ اعظم کا حکم ہے کہا کہ آج جس جس نے بجلی کا بل جمع نہ کرایا تو کل نہ صرف رینجر اسے اٹھائے گی بلکہ اس کا میٹر کاٹنے کے ساتھ ساتھ جرمانہ اور کاروائی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا ایسے ہتک آمیز اعلانات کس فرعونیت کی غمازی ہیں مجھے اسی روز مجھے لاہور نکلنا تھا اس حاکم نے پورے شہر کے ساتھ بذریعہ لاوڈ سپیکر جو گھٹیا رویہ اپنایا بہت شرمناک تھا مگر شہر کی کسی شخصیت نے اسے اس توہین آمیز حرکت کا احساس نہیں دلایا کہ ہہلے کونسا تم خود عوام کے بل ادا کرتے ہو اور جو کوئی ڈیفالٹر ہیں ان کے خلاف آپ قانون کے دائرے میں رہ کر کریں یہ شہری علاقہ ہے یہاں معززین شہر رہتے ہیں ایسے گھٹیا نوعیت کے اعلانات کا اختیار تمہیں کہاں سے مل گیا جبکہ میری اطلاعات کے مطابق جو کچھ لچھن ان دنوں موصوف کے ہیں باقاعدہ انکوائری طلب ہیں سرکاری گاڑی کو کھاد اور بیج اور اجناس لادنے کے علاوہ کسی اور کام میں نہیں لایا جاتا 

میری پیاری اور مجھ جیسی غریب عوام برداشت کرے گدھے کا گوشت ہو مرغیوں کا مردار ہو مردہ بھینسوں وغیرہ کا ہو برادہ بھری مرچیں ہوں مال ان کی مرضی کا ریٹ ان کی مرضی کا اگر ہماری اپنی کھوتا نما حرکتیں نہ ہوتیں تو ہم خون چوسنے والوں کو مسیحا نہ سمجھتے ہم انہی کے آگے بھنگڑے نہ ڈالتے ۔ہمیں بھیک منگ نہ بنایا جاتا ہمیں روزی روٹی کے چکر میں نہ الجھایا جاتا ہم گدھے کے گوشت کی برآمدگی کو اتنا سیریس لیتے ہیں کیسی بھولی قوم ہیں ہم درجنوں مرتبہ گدھے کا گوشت پکڑا گیا مردہ مرغیاں پکڑی گئیں کیمیکل سے تیار شدہ دودھ کی ہزاروں گاڑیاں اداروں کے ہاتھوں آئیں کام اس سے بھی زیادہ برق رفتاری سے جاری ہے نہ خوش ہوں ایسی برآمدگیوں پر ان کاموں سے ہم جیسے ہیں ہمیں ویسے ہی رہنا ہے ہمیں کھانے کو بظاہر جو حلال چیز ملتی ہے وہی مردار ہمارے کیا ہماری اگلی نسلوں کے نصیب میں بھی اور اب پچھلی نسلوں کے نصیبوں میں بھی بنایا جا چکا ہے ۔

Related Articles

Back to top button